غلام حسین ساجد ۔۔۔ دریدہ دل کبھی باچشمِ نم نکلتا ہُوں

دریدہ دل کبھی باچشمِ نم نکلتا ہُوں
مَیں اپنی ذات کے حجرے سے کم نکلتا ہُوں

دیارِ ہند سے باغِ عدن کو جاتا ہُوں
کبھی حجاز سے سوئے عجم نکلتا ہُوں

سحر کو کھینچ کے لاتا ہُوں اِس خرابے میں
مَیں آج رات ترے ہم قدم نکلتا ہُوں

ازل کی کوئی ضرورت نہ اب ابد سے لاگ
مَیں اب کی بار ورائے عدم نکلتا ہُوں

بکھرتا رہتا ہُوں شب بھر مگر بوقتِ سحَر
سمیٹ لیتا ہُوں خود کو، بہم نکلتا ہُوں

اِسی لیے تو تری روشنی میں رہتا ہُوں
مَیں زیرِ سایہ شبِ مختتم نکلتا ہُوں

مجھے پکارتا ہے جب کوئی بے نوا ساجدؔ
تو اُس نواح میں لے کر عَلَم نکلتا ہُوں

Related posts

Leave a Comment